Sunday, October 6, 2013

Dr Saleem Wahid Saleem - ghazal - Subh-e-shaam-e-alam

صبحِ شامِ الم
ڈاکٹر سلیمؔ واحد سلیم (والدِمحترم مسلمؔ سلیم)
کبھی ہیں گریاں کبھی ہیں خنداں کبھی ہے غم تو کبھی خوشی بھی
ہزار رنگوں میں رنگِ دنیا ہے زندگی کی ہما ہمی بھی
کچھ اس طرح سے گذر رہی ہے کچھ اس طرح سے گذر گئی بھی
کہ ہم نے رو رو کے شام کر دی جو صبحِ شامِ الم ہوئی بھی

وہ آج اس طرح یاد آئے کہ دل کو غم بھی ہے اور خوشی بھی
کرم بھی یاد آرہے ہیں ان کے نظر میں ہے ان کی برہمی بھی
ثبات غم کو نہیں میسر تو عارضی ہے شگفتگی بھی
ہمیشہ باقی نہیں رہیں گے مرا الم بھی تری خوشی بھی

ہیں جتنے خم سب کے سب پلادے شراب خانے میں مأ بہا دے
جب آج پینے پہ آگئے ہیں تو کیوں نہ پی لیں رہی سہی بھی
بچھڑ گئے جب تو یاد آیا بچھڑ ہی جانا تھا ہم کو اک دن
ہم اس طرح سے جدا بھی ہوں گے یہ دل نے سوچا نہ تھا کبھی بھی

وہی ہیں جانِ قرار و تسکیں جنھوں نے صبر و قرار لوٹا
غمِ محبت تری دہائی کہ رہزنی بھی ہے رہبری بھی
حدودِ منزل سے بڑھ گئے ہیں خیال ِ منزل میں بارہا ہم
سلیم ؔ منزل بکف رہی ہے ہماری ہر ایک گمرہی بھی


Friday, October 4, 2013

مسلم سلیم - ۲۱ویں صدی کا شاعر Muslim Saleem ----Ikkeesween Sadi ka Shair


مسلم سلیم - ۲۱ویں صدی کا شاعر
از ڈاکٹر شہزاد رضوی۔۔۔۔سابق پروفیسر ، واشنگٹن ، ڈی ۔سی ، یو۔ایس ۔اے
               ایک دن اچانک انٹرنیٹ سرفنگ کے دوران میری نگاہ ایک ویب سائٹ muslimsaleem.wordpress.com پر ٹھہر گئی ۔ یہ بھوپال میں مقیم شاعر ، افسانہ نگار اور صحافی مسلم سلیم کی ویب سائٹ تھی۔ میں کئی گھنٹوں تک اس بلاگ کی سرفنگ کرتا رہا۔ اس میں مسلم سلیم نے صرف اپنی شاعری اور شخصیت کے بارے میں ہی نہیں لکھا بلکہ اردو دنیا کے ہزار ہا شعراء و ادبا کی مختلف ڈائریکٹریز ترتیب دے کر تعارف و تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ میرے نزدیک اردو دنیا میں اتنا بڑا کام پہلے کبھی نہیں ہوا۔ بعد میں پتہ چلا کہ مسلم سلیم نے khojkhabarnews.com, muslimsaleem.blogspot.com, poetswriters.blogspot.com, اور کئی دیگر ویب سائٹس کے ذریعہ بھی اردو کے اس بیش بہا اور مخلصانہ خدمت کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ بہر حال اس تحریر سے مسلم سلیم کی ویب سائیٹس کی تعریف مقصود نہیں بلکہ ان کی اس شاعری سے ہے جسکا بیشتر حصہ ۲۰ ویں صدی میں خلق ہوا لیکن جسے بجا طور پر ۲۱ویں صدی بلکہ اس سے بھی آگے کی شاعری کہا جا سکتا ہے۔
میں ان کی شاعری کے اس جدید لب و لہجہ سے اس قدر متاثر ہواکہ میں نے انٹرنیٹ پر انگریزی میں مسلم سلیم کی شاعری پر نہ صرف سیر حاصل مضامین تحریر کئے بلکہ ان کی کئی غزلوں کا انگریزی ترجمہ ء کل انٹر نیٹ پر پوسٹ کیا۔ میں نے اپنے ۲۴ اپریل، ۲۰۱۱ کے مضمون Muslim Saleem and revelation of his art میں لکھا تھا ’’ اگر بین الاقوامی اردو حلقہ مسلم سلیم کی شاعری کا حظ اٹھانے سے محروم رہ گیا تو یہ ایک از حد شرمناک بات ہوگی۔ مسلم سلیم شاعری برائے شاعری کے قائل نہیں۔ اور تبھی قلم اٹھاتے ہیں جب ان کے سینے میں موجزن جذبات ان کو تحریک دیتے ہیں اور وہ گزشتہ نصف صدی اور موجودہ صدی کے بحرانات و تجربات کو اس تحریک کی کڑی میں خوبصورتی اورچابکدستی سے پروتے چلے جاتے ہیں۔مسلم سلیم کے اشعارکو سرسری طور پر لینے والا خواہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو اس کے عمق سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔ زندگی بھر اسٹڈی روم میں بیٹھ کر مطالعہ کرنے والے جو سرد و گرم زمانہ چشیدہ نہ ہوں مسلم سلیم کی شاعری کی depth تک پہنچنے میں ہو سکتا ہے کہ ناکام ہو جائیں لیکن ہم جیسے لوگ جو زبردست جدو جہد کے بعد امریکہ، یوروپ، اور دیگر بیرونی ممالک میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں، مسلم سلیم کے فن اورتجربے کی گہرائی کو مسmiss نہیں کر سکتے۔‘‘
                اس سے قبل میں نے ۱۰ اپریل ،۲۰۱۱ کو تحریر کردہ اپنے مضمون Muslim Saleem:An Analysis میں مسلم سلیم کے بارے میں لکھا تھا۔
’’ مسلم سلیم کا تعلق اس نسل سے ہے جو آزادئ ہند کے فوراً بعد وجود میں آئی تھی ۔ تلاشِ ذات اس نسل کا سب سے اہم مسئلہ تھا اور اسکے لئے لمحہۂ فکریہ یہ تھا کہ برق رفتاری سے گزرتی جا رہی ۲۰ویں صدی میں وہ کیا اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہی وہ دور تھا جب مسلم سلیم پہلے علی گڑھ اور پھر الہٰ آباد یونیورسٹی میں اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور ہندی کی اپنی صلاحیتوں کو جلاِ دے رہے تھے۔ تحصیل علم کے دوران ہی مسلم سلیم نے معاشرہ کی انہی نئی لہروں کی اپنی شاعری اور افسانوں کا ایجنڈا بنا لیا تھا۔ گزشتہ ۳۰ برس کو دوران انگریزی، اردو اور ہندی میں صحافت سے ان کے قلم کی کاٹ اور بھی گہری ہو گئی ہے۔‘‘ ؂
میں اس مضمون میں مسلم سلیم کے اشعارصرف چند اشعار نقل کر رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ بھی میرے خیالات سے متفق ہو جائیں گے۔ مسلم سلیم کو استعاروں اور علامتوں پر جو عبور حاصل ہے اس سے ان کی شاعری ازحد تہہ دار ہوگئی ہے۔ ایک ہی شعر سے معنیٰ و مفہوم کے سوتے پھوٹے پڑتے ہیں۔ ؂
دھوپ میں دیوار بھی تھی کسکو تھا اسکا خیال

 استفادہ ساےۂِ دیوار سے سب نے کیا
یہ اس شخص کے المیہ اور بے چارگی کا پر اثر بیان ہے جس سے ایک زمانہ مستفید ہوتا ہے لیکن یا تو اس ایثار سے بے خبر ہے یا دیدہ ؤ دانستہ اس کی داد نہیں دیتا کہ اس نے لوگوں کو آلام و مصائب سے محفوظ رکھنے کے لئے آفات و کرب کا کس قدر سامنا کیا ہے اور وہ بھی کوئی شکوہ زبان پر لائے بغیر۔احسان ناشناسی اور بے قدری ہمارے دور کا ایک بڑا المیہ ہے اور غزل کے دو مصرعوں میں اسے اتنی چابکدستی اور فنّی مہارت کے ساتھ نظم کرنے پر مسلم سلیم بے شک داد کے مستحق ہیں۔ ؂

بچوں کو ہونے دیجئے احساس دھوپ کا
۔۔۔۔ نشو و نما نہ روکئے، سایہ نہ کیجئے
ایک بار پھر دھوپ اور سایہ کی علامتیں ایک بہترین شعر کی تخلیق میں ممد ہوئی ہیں۔ جدوجہد اور تجربات و حوادث زندگی میں آگے بڑھتے رہنے اور اسے سنوارنے کے لئے از حد ضروری ہیں۔ ضرورت سے زیادہ پدری یا مادری شفقت میں پلنے والے بچے زندگی میں ذہنی و شخصی ارتقاء کی کئی منازل طے کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس لئے تجربے ان کے لئے تریاق اور سایہ سنگِ راہ ہے۔ یہ مضمون غزل کے پیرائے میں مسلم سلیم سے پہلے کسی نے نہیں باندھا ہے۔ ؂
تقدیر کی مجھ سے یونہی تکرار چلے گے۔۔۔۔۔ میں سائے میں بیٹھوں گا تو دیوار چلے گی
اس شعر میں دھوپ کا لفظ تو نہیں لیکن اس کا شدید احساس موجود ہے۔ سایہ اور دیوار مل کر پھر جادو جگاتے ہیں اور ایک المیہ اے حسین پیرائے میں بیان ہو جاتا ہے۔ شاعر ایک ایسے شخص کی کیفےئات کو بیان کرتا ہے جو مسلسل طور پر اخوت، شفقت، دوستی اور کرم سے محروم ہے۔ یہ احساسِ محرومی تب اور بھی بڑھ جاتا ہے جب وہ کسی ایسے شخص کی طرف بڑھنے کی سعی کرتا ہے جس میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس شخص سے کچھ استفادہ کر سکے وہ شخص کوچ کر جاتا ہے اور طالبِ فیض تشنہ کا تشنہ رہ جاتا ہے۔ ؂
سائباں ساتھ کس کے چلے ہیں ۔۔۔۔۔پھر وہی دھوپ تھی، قافلہ تھا
قافلۂِ ذات کو تجربات و حوادث کی تیز دھوپ میں چلتے ہی رہنا پڑتا ہے کیونکہ محافظت اور تسکین دینے والے ایک حد تک ہی ساتھ دے سکتے ہیں اور رہگزارِ زیست میں ان سے صرف اسی قدر مستفید ہوا جاسکتا ہے جس طرح راہ میں کوئی سائبان یا کوئی سایہ مل جائے اور انسان کچھ دیر وہاں رک کر آرام کر لے۔ آگے کا سفر تو اسے سائبان سے آگے بڑھکر صعوبتوں اور دشواریوں کو جھیل کر ہی طے کرنا پڑیگا۔
یہ اشعار میں نے مسلم سلیم کے گذشتہ مجموعہ آمد آمد سے لئے تھے۔ اب میں ان کے زیرِ نظر مجموعہ سے منتخب چند تاریخ ساز اشعار کی نشاندہی کر رہا ہوں۔
بہار لائے تھے یہ انکا احترام کرو۔۔۔۔خزاں رسیدہ درختوں کو بھی سلام کرو
پاس ہو کے بھی ہم سے وہ خفا خفا سا ہے ۔۔۔۔۔دوریاں ہیں میلوں کی فاصلہ ذرا سا ہے
رنگ آتے جاتے ہیں کتنے اسکے چہرے پر۔۔۔۔۔حسن اسکا اب دیکھو جب کہ وہ خفا سا ہے
اس لئے جیت کر ہر اک میداں بڑھ گئے رزم گاہ سے آگے۔۔۔۔ہم نے اپنی نگاہ رکھی تھی دشمنوں کی نگاہ سے آگے
پہلے تھا ملک میں بس اک ظالم سب جسے بادشاہ کہتے تھے۔۔۔۔اب تو اپنے ہیں سینکڑوں آقا ظلم میں عالی جاہ سے آگے
کس قدر پانی ہے پہلے اس کا اندازہ کیا۔۔۔۔۔بند پھر اپنی مدد کا اس نے دروازہ کیا
دہکتی ریت پر پھر میں نے دیکھا۔۔۔۔سمندر میری ٹھوکر سے نکلنا
قوم کی زبوں حالی پر بھی مسلمؔ سلیم نے بے حد چابک دستی سے روشنی ڈالی ہے:۔
یاد ہے سارا جہاں بھول گئے ہیں خود کو۔۔۔۔۔سوچتے ہیں کہ کہاں بھول گئے ہیں خود کو
جیت لے گا ہمیں دشمن بڑی آسانی سے۔۔۔۔۔ہو گیا سب پہ عیاں بھول گئے ہیں خود کو
زیرِ نظر مجموعے میں مسلمؔ سلیم نے دہشت گردی کے خلاف کافی موثر اشعار شامل کئے ہیں۔یہاں میں اس موضوع پر انکی ایک مکمل غزال نما نظم نقل کر رہا ہوں:
ہو اگر عاجز تو پھر حاجت روا بنتے ہو کیوں۔۔۔۔کام ہے یہ تو خدا کا تم خدا بنتے ہو کیوں
درسِ رحمت بھول کر کیوں بن گئے بیدادگر۔۔۔۔۔سب کے حق میں پیکرِ جوروجفا بنتے ہو کیوں
ہر قدم کج فہمیاں ہیں، ہر قدم گمراہیاں۔۔۔۔۔حق شناس و حق نگر اور حق نما بنتے ہو کیوں
ہو اگر مقدور رکھّو ساتھ کوئی راہبر۔۔۔۔۔راہ گم گشتہ عزیزو! رہمنا بنتے ہو کیوں
فرض مسلمؔ پر قیامِ امن ہے یہ جان لو ۔۔۔۔۔۔یوں کھلونا بے جہت جذبات کا بنتے ہو کیوں
اسی موضوع پر چند اور اشعار ملاحظہ ہوں:
نہ جانے کس جگہ مل جائے دہشت۔۔۔۔دعائیں پڑھ کے سب گھر سے نکلنا
بھرے گا پیکرِ تصویر میںِ خوں ۔۔۔۔۔محبت کا وہ منظر سے نکلنا
بہشت ملتی ہے دہشت سے اور تشدّد سے ۔۔۔۔۔نکال ڈالے دماغوں سے یہ سنک کوئی
اڑا کے اوروں کو خود کو بھی مار لیتے ہیں۔۔۔۔۔وہ سوچتے ہیں کہ اس میں ثواب ہوتا ہے
اے کشت و خون کے داعی ذرا بتا تو سہی ۔۔۔۔۔کہ ان دھماکوں سے کیا انقلاب ہوتا ہے
اس مجموعہ میں رومانی شاعری اور قطعات کی شمولیت بھی معنی خیز ہے کیونکہ پہلے مجموعے میں ان کی تعداد برائے نام تھیْ وہ مجھ کو سمجھنے میں جو ناکام رہا ہے ۔ ۔۔۔ ۔ خود مجھ پہ ہی اس جرم کا الزام رہا ہے
یہ جسم کرتا ہے اکثر بہت سوال تر۱ ۔۔۔ ۔۔ رگوں میں دوڑنے لگتا ہے جب خیال ترا
قدم بچا کے رکھوں میں اگر تو کیسے رکھوں ۔ ۔۔۔ہر ایک سمت تو پھیلا ہوا ہے جال ترا
تب مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے مخمل یاد کا ۔۔ ۔۔۔ سر پہ جب سایہ فگن ہوتا ہے بادل یاد کا
جان و دل میں جب مہک اٹھتا ہے صندل یاد کا۔۔۔۔ سو غموں کو دور کر دیتا ہے اک پل یاد کا
آج صندوق سے دیرینہ زمانے نکلے ۔۔۔۔۔ڈائری کھولی تو یادوں کے خزانے نکلے
ایسے ماضی کی پھواروں میں شرابور ہوئے۔۔۔۔ جیسے بچہ کوئی بارش میں نہانے نکلے
رات بھر چنتے ہیں اکثر لعل و گوہر خواب کے۔۔۔صبحدم روتے ہیں ہم ٹکڑے اٹھا کر خواب کے
خواب کی جانب چلے پیغام لے کر خواب کے۔۔۔۔یوں اڑے دل کی منڈیروں سے کبوتر خواب کے
جان و دل اپنے ہیں صدقے اس منور خواب کے ۔۔۔۔۔جاگتی آنکھوں میں رہنے دو وہ منظر خواب کے
مسلم سلیم نے مغربی ممالک اور میڈیا کی فحاشی اور غلط بیانی کا راز بھی فاش کیا ہے:
مغربی بازاریت کی دین یہ ہیجان ہے۔۔۔۔۔حسنِ نسواں اب فقط تفریح کا سامان ہے
مکر آرائش ہے اسکی،جھوٹ اسکی شان ہے۔۔۔۔۔مت بہک جانا، یہ گورا میڈیا شیطان ہے
خود تو گویا قتل و غارت، ظلم سے انجان ہے۔۔۔۔۔ ہر برائی کے لئے اسلام پر بہتان ہے
اُس کی ہرزہ گوئیوں پر مہرِ استحسان ہے ۔۔۔۔۔۔ ہم نے گر کچھ کہہ دیا تو ہر طرف طوفان ہے
حق پہ جینا ، حق پہ مر مٹنا ہی اسکی شان ہے۔۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے دہر میں مسلم ہی بس انسان ہے
مسلم سلیم کا تقریباً ہر شعر ایسی ہی تہہ داریوں سے مملو ہے اس کے لئے ایک علیحدہ کتاب درکار ہے اور اس مضمون کی طوالت کے خوف سے میں اسے یہیں ختم کرتا ہوں لیکن چلتے چلتے ایک بار پھر میں مسلم سلیم کی اردو ویب سائٹس اور ویب ڈائریکٹریز کا ذکر کروں گا اور یہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ اس کارنامہ کے سبب مسلم سلیم کو بابائے اردو مولوی عبدالحق کے پائے کی شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔

Sunday, September 29, 2013

Muslim Saleem – ghazal Sept 29, 2013

ghazal ke log
WO DOOR KAY HON DIWAANE, KE HON QAREEB KE LOG
HAIN MADHA-KHWAAN USI PAIKAR-E-AJEEB KE LOG

HAIN KAARZAAR KAI AUR BHI ZAMANAANE MAIN

HILAAL HI SAY ULAJHTAY HAIN KYOON SALEEB KE LOG

SARON KI GINTI NAY AAKHIR KIYA USAY RUSWAA

AMEER-E-SHEHR PAY BHAARI PADAY GHAREEB KE LOG

JAHAAN MAIN DHOOM HAI JINKI YARAF NIGAAHI KI

DIKHAYEE KYOON NAHEEN DETAY UNHEN QAREEB KAY LOG

GUL-E-KHAMOOSH KA DETAA NAHEEN HAI SAATH KOI

HAIN SAARE HAASHIYA-BARDAAR ANDALEEB KE LOG

NAZAR BACHA KAY HAM USDILRUBA SAY MIL AAYE

GALI MAIN GHOOMTAY PHIRTAY RAHE RAQEEB KAY LOG

WATAN SAY AAJ CHALAA HOON YE SOCH KAR MUSLIM

KAHEEN TOMUJH KO MILENGAY MERAY NASEEB KE LOG

Tuesday, September 24, 2013

Naqshband Qamar Bhopali ki manzoom tareekh "Hammasa" par ek taairna nazar: Muslim Saleem

نقشبند قمرؔ نقوی بھوپالی کی مایۂِ ناز تخلیق حمّاسہ جلد اوّل پر ایک طائرانہ نظر۔ مسلمؔ سلیم
تبصرے سے پہلے میں ایک وضاحت کردو کہ نقشبند قمرؔ نقوی بھوپال میں تولد ضرور ہوئے لیکن پاکستان ہجرت کرگئے اور اب ٹلسا، یو۔اس۔اے میں سکونت پذیر ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ وہ بھوپالی کہلا کر بھی اب بھوپالی نہیں ہیں جبکہ خادم بھوپال میں تولد نہ ہوکر بھی اب بھوپالی ہے۔ ایک اور اتفاق یہ ہے کہ منصب منزل جہاں نقشبند قمرؔ نقوی صاحب تولد ہوئے تھے میرے غریب خانے سے کچھ ہی فاصلے پر ہے اور میں دفتر آتے۔جاتے روز ادھر سے گذرتا ہوں۔ لیکن اس سے یہ عندیہ ہرگز نہیں لیا جائے کہ تبصرہ کا مقصد بھوپالیت یا ذاتی تعلقات سے ہے کیوں کہ میں آج تک نقشبند قمرؔ نقوی بھوپالی سے نہیں ملا ۔ان سے میری انٹرنیٹ ملاقات تب ہوئی جب میں نے ۳؍ برس پہلے کسی رسالے سے ان کی تصویر اور کلام لے کر اپنی ویب ڈائریکٹری ’’اردو پوئٹس انیڈ رائٹرز آف اردو ‘‘ میں شامل کرکے ان کو اس سے مطلع کیا تھا۔تب سے اب تک شاید کچھ ہی ای۔میل کا تبادلہ ہو ا ہوگا کہ اچانک ایک دن ان کی کتاب حماسہ کی پہلی جلد موصول ہوئی۔ میں نے اسکا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کتاب سے قارئین کو رو شناس کراؤں۔

Friday, September 20, 2013

Poets' tribute to Muslim Saleem's parents


POETIC TRIBUTES TO MUSLIM SALEEM’S PARENTS BY DR. AHMAD ALI BARQI AZMI (DELHI), ZIA SHAHZAD SHAHZAD (KARACHI) AND NAZAKAT ALI AAZIM (CHICAGO, ILLINOIS) GRAPHICS COURTESY POET MOHD ALEEMULLAH KHAN WAQAAR (SAHARANPUR-INDIA)
************************************
MERA SHER IS TARAH HAI
JIN SAY HAY YE WUJOOD, ZABAAN HAI, KALAAM HAI
UN DO AZEEM ROOHON KO MERA SALAAM HAI
**********************************
Zia Shahzad Shahzad (Karachi)
مسلم سلیم میرا بھی پہنچے انہین سلام

۔ ۔ ۔ بیشک عظیم روحوں کا جنت ہی ہے مقام ۔

Muslim Saleem's tribute to parents

Sunday, September 15, 2013

MUSLIM SALEEM – POETIC TRIBUTES BY OTHER POETS (UPDATED TILL SEPT 15, 2013

DR. AHMAD ALI BARQI AZMI, NEW DELHI, INDIA
WAQT KIAAWAZ HAIN MUSLIM SALEEM
SHAAIR-E-MUMTAZHAIN MUSLIM SALEEM
JAAN-FAZAHAI UNKA MEYARI KALAAM
SAHIB-E-AIJAZHAIN MUSLIM SALEEM
http://urdunewsblog.wordpress.com/2013/05/31/waqt-ki-aawaz-hain-muslim-saleem-tribute-by-dr-barqi-azmi/

TANVEER PHOOL, NEW YORK, USA
NAGHMA-E-TAHNIYATHAI HAR LAB PAR
BHAI MUSLIMSALEEM DEEDAH-WAR

Thursday, September 12, 2013

Muslim Saleem ki ghazal par manzoom tabsire




Owais Jafrey sb., Washington, USA
فکر و فن، لہجہ، معانی، صوت و آہنگ کا کمال
مسلم، اِک شا عر بڑے ہیں اطّلا عاً عرض ہے
***************************************************************


 Ahmad Ali Barqi Azmi, Delhi
Rang e Muslim se numayaaN hai shaoor e fikr o fun
Woh sukhanwar ek bade haiN ittela'an arz hai 


رنگِ مسلم سے نمایاں ہے شعورِ فکر و فن وہ سخنور اک بڑے ہیں اطلاعاََ عرض ہے احمد علی برقی اعظمی 
 ********************************************************************************************
  Zia Shahzad Shahzad, Karachi, Pakistan
  • Zia Shahzad Shahzad , Karachi, Pakistan
     واہ واہ ! کیسی انوکھی ہے یہ مسلم کی ردیف
     ۔ ۔ ۔ ۔ شعر میں موتی جڑے ہیں اطلاعاً عرض ہے
     ۔ ۔ ۔ ۔اک نیا رنگ تغزل سیکھئے شہزاد آپ
     ۔ ۔ ۔ ۔ ہم سخنور کب بڑے ہیں اطلاعاً عرض ہے
     ۔( ضیا ۶ شہزاد )۔
*******************************************************************************************

Saud Siddiui sb, Karachi

کاش میں بھی شعر میں داد _سخن دیتا انہیں
رنگ مسلم کا الگ ہے ، اطلاعا" عرض ہے
سعود صدیقی

***************************************************************************************

  • شعر موتی سے جَڑے ہَیں اطلاعاً عرض ہے
    دریا کُوزے میں تَڑے ہیں اطلاعاً عرض ہے
    • Ahmad Ali Khan Kanpur, India
      JINKO DUNIYA JAANTI HAI ISM HAI "MUSLIM SALEEM",,,,,,, 
      ILM KE AFZAL DHADAY HAIN ITTILA'AN ARZ HAI,,,,,,!!!!!!!
      Awesome.......... Radeef par Zour-e-Qalam ka y Jadooo her Dil ko apna qaayl karne ke liye kaafi hai ..
      ++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++


      • Zia Roomani, Karnataka state, India  
        Shair umda aur baday hin ittla'an arz hai.
        Kheyal nashther sa lagey hai ittlaan
        arz hai.
      ***********************************************************
      JANNAT BI (KARACH-PAKISTAN)
      MERI ABJAD KAY TO SARY LAFZ GOONGAY HO GAY....
      PESH-E-MUSLIM CHUP KHADAY HAIN, ITTELA'AN ARZ HE..!
      *******************************************************
      MAJEED TAAJ BALOCH (BALOCHISTAN-PAKISTAN

      CHAHATAY THAY SARSARI PADH KAR GUZAR HI JAAYEN HAM
      PHIRI BHI DAM SAADAY KHADAY HAIN , ITTILA’AN ARZ HAI
      SHER KYA HAIN JAISE YEH URDU KE ZEWAR HAIN KOI
      HEERAT AYR  MOTI JADAY HAIN, N ITTILA’AN ARZ HAI
      *********************************** *********************
       
       
    OTHER AHAM NASRI TABSIRE


    • Aamir Riyaz, Kanpur, India
       ایسی ردیف تو آج تک استمعال ہی نہیں ہوئی...بہت عمدہ اشعار ہیں...لطف آ گیا پڑھ کر ....واہ
       واہ

 *************************************************************************


  • Sher Bahadur Akhtar, Datia  Madhya Pradesh, India
    AAP KI MAANIND CHALTAY THAY AKAD KAR JO KABHI...
    KHAAK MAIN WO SAB GADAY HAIN ITTILA’AN ARZ HAI
    KHEL BACHCHON KA NAHEEN HAI, ISHQ KA RASTA HAI YEH
    MARHALE SAARAY KADAY HAIN ITTILA’AN ARZ HAI
    GUDRIYON MAIN REH KE KHIDMAT KHALQ KI KARTAY HAIN JO
    WO SABHI INSAAN BADAY HAIN ITTILA’AN ARZ HAI
    BAARHA MUSLIM KIYA HAI HAM NAY KHOON-E-ARZOO
    KHUD SAY HAM AKSAR LADAY HAIN ITTILA’AN ARZ HAI
     
    ................waaaaaaaaah waaaaaaaaaaaah bahut khoob mohtram muslim saleem sahab,naye zaviye ke sath kiya andaze bayaan hai waaaaah waaaah bahut khoob.
     ***************************************************************************
    • Ahmad Ali Khan, Kanpur, India 
      Naayaab "Aamad".. .... Khidmat-e-Khalq ki Raah mein ik Munfarid Message Insaniyat ke Naam.......... GUDRIYON MAIN REH KE KHIDMAT KHALQ KI KARTAY HAIN JO
      WO SABHI INSAAN BADAY HAIN ITTILA’AN ARZ HAI

    • Ahmad Ali Khan Awesome.......... Radeef par Zour-e-Qalam ka y Jadooo her Dil ko apna qaayl karne ke liye kaafi hai ............JINKO DUNIYA JAANTI HAI ISM SE "MUSLIM SALEEM",,,,,,, ILM KE AFZAL DHADAY HAIN ITTILA'AN ARZ HAI,,,,,,!!!!!!!
    • Masroor Ahmed, Karachi, Pakistan
      NICE PRESENTATION OF YOUR THINKING.ACCHHEE NAHI BOHAT ACCHHEE LAGEE AAP KI YEH GHAZAL ITTELA AN ARAZ HAY
      **********************************************************************
      • MOHATRAM APNE BILKUL NAI RADEEF PESH KARKE GHAZAL KO EK NAYA RASTA DIKHAYA HAI KHUDA KARE APKI IS RADEEF SE AANE WALI NASL ISTAFADA HASIL KARE OR APKI RADEEF SARI DUNIYA MAIN MAQBULIYAT KI SANAD HASIL KARE AISI MERI DUA HAI .


Tuesday, September 10, 2013

Muslaim Saleem - tribute by Mohd Aleemullah Khan Waqaar


PARCHAM-E-URDU KO THAAME HAI KHADA MUSLIM SALEEM
BAA KHUA URDU ZABAAN PAR HAI FIDA MUSLIM SALEEM
KAISE NAA BHI SHUKRE KHUDA HAM BHI KAREN AB BE-SHUMAAR
FACEBOOK SAY YAAR URDU KO MILA MUSLIM SALEEM

Monday, September 9, 2013

NAZM URDU – MUSLIM SALEEM


urduHAR KASAUTI PAY KHARA UTRAY WO SONA URDU
KUCHH BHI KHO DENA MERAY YAAR NA KHONA URDU
TAAKE HAR LAFZ ZABAANON SAY MAHAKTA NIKLAY
APNI NASLON KAY GULISTAAN MAIN BONA URDU
ISHQ-E-GHALIB NAY KIYA JISKA HAI IQBAL BALAND
MEER-E-HAR NUTQ ZABAAN KYA HAI? KAHONA URDU
HOOM ATAL, NARGHA-E-DUSHMAN SAY NAHEEN GHABRAATA
KUCHH BHI HO JAYE, MERAY GHAR MAIN TO HONA URDU
NAUKRI APNI YEH MUSLIM NAY SAMAJH RAKKHI HAI
SAB KAY GULDASTA-E-HASTI MAIN PIRONA URDU
(KHAS TAUR SAY HINDUSTAN KAY TANAAZUR MAIN)

URDU AUR MUSLIM SALEEM BY ZIA SHAZAD SHAHZAD

Urdu zaban aur Muslim SaleemQUDRAT HAMESHA URDU PAY JO MEHRBAAN RAHI
PHOOLI PHALI, DILON PAY SADAA HUKMRAAN RAHI
 MUSLIM SALEEM JAISON KA SAARA HAI YEH KAMAAL
ZINDA HAR EK DAUR MAIN URDU ZABAN RAHI
 MUSLIM KA AUDHNA BHI BICHHAUNA BHI URDU HAI
MAHBOOBA UKI URDU RAHI, JAAN-E-JAAN RAHI
 KYA KYA NA DAUR GUZRE HAIN URDU ZABAAN PAR
LEKIN YEH SANBHLI GARCHE BAHUT NATAWAAN RAHI
 RAKH DEN KOI BHI NAAM MAGAR URDU, URDU HAI
BANDISH KAY BA-WUJOOD YE WIRD-E-ZABAAN RAHI
 GHALIB HAI ISHQ-E-URDU, HAI IQBAL BHI BALAND
MUSLIM KAY DAM SAY URDU JAWAAN, AASMAN RAHI
 SHAHZAD KAASH MAIN BHI MAHAK JAAOON MISL-E-GUL
URDU MERI ZABAAN, MERA GULSITAAN RAHI

Mohd Aleemullah Waqaar’s tribute to Muslim Saleem


Waqaar on Muslim Saleem

Saturday, September 7, 2013

Mushaira held at Dhar city, Muslim Saleem felicitated


I attended a mushaira at Dhar city in Madhya Pradesh on September 3, 2013 along with Iqbal Masood, Mrs Anita Mokati, Saleem Sabri, Tabassum Dharvi, Akram Saaqi, Nazar Dharvi, Shalabh Johi and others. It was organised by Allama Iqbal Literary Division of Madhya Pradesh Cultural Council. (The mushaira was preceded by a seminar on “Allama Iqbal, Unka Kalaam aur Zindagi) I am grateful to institution’s Director Prof. Tirubhuvan Nath Shukla for organasing such a successful seminar and mushaira commemorating immortal Allama Iqbal. Mr. Mumtaz Khan of the institution was the moving spirit behind the great event.
I was glad to see that Urdu is prospering in Dhar, which has small presence of Urdu knowing people. Here I will make a special mention of Mrs Anita Mukati, who has emerged as one of most popular Urdu poets at mushairas in India. (She is seen sitting next to me on the dais). Later, Anita told me that she has great “aamad”. When I asked her how she manages this when she is over-busy in her garment trade, her children informed me that she compose poetry anywhere anytime and that too with tarrannum.
I have made Anita Mukati in-charge of my Urdu directory for Dhar.
The mushaira was well attended. People stayed till end. I was called to recite ghazals in the end, which is great honour for me.
On way to Dhar, I stopped over Indore for one hour. Very graciously, Indore University Urdu Department’s Prof. Waseem Farhat Ansari came to meet me. Waseem Farhat Ansari sb, though young, commands much respect in Urdu world for his sharp and candid essays. I also met veteran poet Naseer Indori sb. My FB fan Meer Ishan Hussain had also come.
Muslim Saleem being honoured by Prof. Tirubhuvan Nath Shukla. Poetess Anita Mukati (sitting) and her daughter (standing) are also seen
Muslim Saleem being honoured by Prof. Tirubhuvan Nath Shukla. Poetess Anita Mukati (sitting) and her daughter (standing) are also seen

Ahmad Ali Khan’s poetic tributes on my Dhar visit


Meray karam farma janab Ahmad Ali Khan sb nay aaj meray liye kuchh ashaar share kiye hain. Mulahaza hon.AB DHAR*,,,,,,, KAARVA’N PAHUNCHA Guzashta dino yani 3 September – 2013 ko ” Dhar City ” mein ik Mushaire ka ehtamaam bela-tafreeq Mazhab-o-Millat maqaami hazraat ne kiya tha……. Es Mauqay par Hamare mulk ke mo’atbar-o-mumtaz Shayer Janab Muslim Saleem saheb ne apni shirkat se shair-o-sukhan ki Mehfil ko jo Raunaq bakhsha…… Wusi manzar ko apne zehn mein rakhkar Main unki shaan mein b-taur-e-Aqeedat cha’nd shair kehne ki jurr’at kar raha hoon…….. !
WO THAME PARCHAM-E-URDU KAHA’N- KAHA’N PAHUNCHA,,
UTHAA BHOPAL SE, AB DHAR*,,,,,,,,,,,, KAARVA’N PAHUNCHA,,
JO DEKHA DHOOP MEIN,,,,,,,,, PAUDA KOI JHULASTAY HUAY,,
TO BANKAY SAYA -E- SHAFQAT WO BAAGHBA’N PAHUNCHA,,
KAMAAL-E- HASTI HAI,,,,,,,,,, YA YE KASHISH KALAAM KI HAI,,
KE UNKI BAZM MEIN HER PEER -O- NAUJAWA’N PAHUNCHA,,
BALAND ITNA HUA HAI,,,,,,,,,,,,,,,,, QAD AAJ “ MUSLIM “ KAA,,
JAHAN NA PAHUNCHA THA KOI WO AB WAHA’N PAHUNCHA,,
DHAR* Madhya Pradesh ka Ek Mashhoor Shehr hai Jahaan 3 September, 2013 ko Halqa-e-Ahbaab-o-Adab se Janab Muslim Saleem saheb ko ik Yaadgaar Aizaz mila.
Ahmad_Ali_Khan_on_Dhar_mushaira gif

Zia Shahzad Shahzad’s poetic tribute to Muslim Saleem's Dhar visit


Zia Shahzad Shahzad Karachi main muqeem kohna mashq shair aur sahafi hain. Aap nay aaj meray liye kuchh ashaar share kiye hain. Mulahaza hon.
NAZR-E-MUSLIM SALEEM
MUSLIM SALEEM AAP KO KARTA HOON MAIN SALAAM
URDU KO AAP NAY KIYA MAQBOOL-E-KHAS-O-AAM
PARCHAM ZABAAN-E-URDU KA THAAME TO PAHUNCHAY DHAAR
HAR LAB PAY NAAM-E-URDU RAHA SUBH AUR SHAAM
ALLAH! AISAY LOGON KO UMR-E-KHIZAR ATAA
WO JIN KAY DAM SAY URDU NAY PAAYA UROOJ-O-BAAM
SHAHZAD AAJ URDU JO TAABINDA, ZINDAA HAI
“MUSLIM” SAY LOGON NAY HI DILAYA HAI YEH MAQAAM
Zia Shahzad's poetic comment on Dhar visit